عیب چیں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - برائی ڈھونڈنے والا، خرابی پر نظر رکھنے والا، برائی نکالنے والا، نقائص و عیوب پر نظر رکھنے والا۔ خردہ گیر و عیب چیں انگریز اس سوال کا جواب اپنے ملک کے برخلاف دینے میں یہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عیب' کے ساتھ فارسی مصدر 'چیدن' سے صیغہ امر 'چیں' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٥٤ء کو "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برائی ڈھونڈنے والا، خرابی پر نظر رکھنے والا، برائی نکالنے والا، نقائص و عیوب پر نظر رکھنے والا۔ خردہ گیر و عیب چیں انگریز اس سوال کا جواب اپنے ملک کے برخلاف دینے میں یہ کہتے ہیں۔"      ( ١٩٠٤ء، آئین قیصری، ١٦ )